• Mon. Jul 22nd, 2024

محرم الحرام سے قبل شہر کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ڈی ایم سیز کے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے

Aug 27, 2019

غلام مصطفے عزیز / کراجی

کراچی، 26 اگست۔۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ محرم الحرام سے قبل شہر کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ڈی ایم سیز کے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے اورتمام محکموں کو سڑک پر لاکر کام کریں گے، ہماری کوشش ہے کہ کراچی میں سیوریج کا نیا انفراسٹرکچر ڈلوائیں ، کچرے اور سیوریج کا درست اخراج ہوئے بغیر صفائی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، بہتری کے لئے ہرحد تک جاچکا ہوں ، وزیر اعلیٰ سندھ بھی شہر کی صورتحال سے پریشان ہیں ، واٹر بورڈ ہر ڈسٹرکٹس میں کنڈی مین مہیا کرے تاکہ چھوٹے چھوٹے کام کراسکیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی سہ پہر کے ایم سی ہیڈ آفس میں محر م الحرام کے انتظامات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیاجس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور محرم کی مجالس اور جلوسوں کے منتظمین کے علاوہ پولیس اور رینجرز کے نمائندوں نے بھی شرکت کی جبکہ اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سید ارشد حسن، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن ،چیئرمین ضلع جنوبی ملک فیاض، چیئرمین ضلع غربی اظہار احمد خان، وائس چیئرمین ضلع شرقی اور کورنگی، سٹی کونسل کی مختلف کمیٹیوں کے چیئرمینز اور افسران بھی موجود تھے، اجلاس کے شرکاء نے مختلف مسائل کی نشاندہی کی اور شہر کے مختلف علاقوں خاص طور پر محرم کی مجالس اور جلوسوں کی گزرگاہوں کے اطراف سڑکوں کی پیوندکاری و مرمت، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، صفائی ستھرائی، اسٹریٹ لاءٹس کی مرمت، تجاوزات کا خاتمہ، درختوں کی کٹائی چھٹائی اور سیوریج کی نکاسی کے لئے اقدامات کی درخواست کی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ شہر کا حال ٹھیک نہیں ، عوام مشکل میں ہیں ، لوگ گندہ پانی پی رہے ہیں ، اسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش نہیں ،سسٹم میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے استعفیٰ دینا بہت آسان ہے مگر میں نے یہ چیلنج قبول کیا ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 140-;65; پر عملدرآمد کرائے، بلدیاتی ادارے ہی جمہوریت کی نرسری ہیں ان کو مضبوط کیا جائے انہوں نے کہا کہ صوبائی و وفاقی حکومت سے مدد مانگی تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم ہو، بحریہ ٹاءون اور ایف ڈبلیو او کا شکریہ ، ڈسٹرکٹس پہلے بھی صفائی کا کام کر رہے تھے انہیں فنڈز دیئے جائیں تاہم کے ایم سی کے جو بھی فراءض ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں ہوگی ۔