• Fri. Apr 19th, 2024

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سینٹرل پولیس آفس آمد

Sep 10, 2019

کراچی(غلام مصطفے عزیز )وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی، چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ اور سیکریٹری داخلہ سندھ کبیر قاضی کی سینٹرل پولیس آفس کراچی میں آمد کے موقع پر آئی جی سندھ ڈاکٹرسیدکلیم امام نے استقبال کیا۔ بعدازاں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے شہرکے مختلف مقامات کی سیکورٹی مانیٹرنگ کاجائزہ لیا۔ اے آئی جی آپریشنز سندھ فیصل عبداللہ چاچڑ نے بتایا کہ سندھ بھر سے یوم عاشور کے موقع پر برآمد ہونیوالے جلوسوں کی مجموعی تعداد1555 جبکہ منعقدہ مجالس کی تعداد 1470 تھی جن کی سیکورٹی کے لئے 39007 پولیس افسران اور جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق سندھ کے مجموعی اضلاع میں فلیش پوائنٹس کی تعداد 484 تھی جہاں پولیس نے پیشہ وارانہ مہارت اور وضع کردہ حکمت عملی کے عین مطابق حالات کو کنٹرول میں رکھنے جیسے اقدامات بطریق احسن انجام دیئے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں یوم عاشور کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی فرائض پر 6648 پولیس افسران اور جوان مامور کئے گئے تھے جبکہ سندھ بھر میں یکم محرم تا عاشورہ محرم مجموعی طور پر 71485 پولیس افسران اور جوانوں کی ڈپلائمنٹ کی گئی تھی، پولیس کی3793 گاڑیوں میں ڈپلائمنٹ کے ساتھ ٹریفک پولیس کے 1022 اہلکار بھی خصوصی فرائض پر تعینات تھے۔ اس موقع پرڈی آئی جی آئی ٹی فدا حسین مستوئی نے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے سیکورٹی مانیٹرنگ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ مختلف مقامات پر نصب2200 سی سی ٹی وی کیمروں سے شہر کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے جبکہ یوم عاشور کے مرکزی جلوس کے روٹس پر باالخصوص علیحدہ سے نصب 335 سی سی ٹی وی کیمروں سے سیکورٹی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں پہلی مرتبہ ڈرون کیمروں سے ناصرف براہِ راست سیکورٹی مانیٹرنگ بلکہ مانیٹرنگ ڈیٹا کو باقاعدہ محفوظ بھی بنایا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 100 افسران و جوان،125 منسٹریل اسٹاف، آر آر ایف کی 04 کمپنیز، ایس ایس یو، آر آر ایف اور 168 خواتین اہلکاروں سمیت 3900 پولیس اہلکار ریزرو فورس کا حصہ تھے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سندھ بھر کے مختلف اضلاع میں جزوی طور پر موبائل نیٹ ورک کو بھی بند کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں یوم عاشور پر فضائی نگرانی کے عمل کو بھی یقینی بنایا گیا تھا۔