سینٹرل پولیس آفس کراچی میں انسانی حقوق کے مرکزی سیل کے قیام کا اعلان

کراچی(غلام مصطفے عزیز

) آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام نے سینٹرل پولیس آفس کراچی میں انسانی حقوق کے مرکزی سیل کے قیام کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے اس سیل کے اغراض و
مقاصد ودیگر ضروری امور واقدامات سے متعلق پولیس کو ہدایات جاری کردیں۔ یہ ہدایات انہوں نے سی پی او میں انسانی حقوق کے مرکزی سیل کے قیام اوراس کے جملہ امور پر مشتمل اورذیرغور اسٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کا دورانِ جائزہ اجلاس جاری کیں۔ اجلاس میں پولیس کے سینئر افسران کے علاوہ انسانی حقوق کے تحفط جیسے امور میں سرگرم وفاقی اور صوبائی تنظیموں اور سندھ وومن ڈیولپمنٹ کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ لوگوں کی اکثریت کو یہ ادراک ہی نہیں کہ وہ اپنے مسائل ومشکلات کے اذالوں یا مشکل صورتحال میں کس سے مدد مانگیں اور کس کے اپنے دکھوں کا مداوا طلب کریں۔انہوں نے کہا کہ پولیس اس پلیٹ فارم سے ناصرف لوگوں کو انکے حقوق کی بابت آگاہی دیگی بلکہ انکی ہر ممکن
قانونی مدد جیسے اقدامات کو بھی یقینی بنائیگی۔انہوں نے کہا کہ یہ خصوصی سیل مرکزی حیثیت میں خواتین، بچوں،اقلیتوں اور خواجہ سراؤں کے حقوق اورانکے تحفظ کے لیئے کام کریگا اور انکے خلاف ہونیوالے شدید اور دیگر مختلف نوعیت کے جرائم پر اگر انکے سرپرست یا اہل خانہ شکایات کے اندراج کے لیئے متعلقہ تھانہ جات سے رجوع نہیں کرینگے تو ایسی صورت میں ریاست/ پولیس اپنی مدعیت میں کیس کا نا صرف اندراج کریگی بلکہ جرائم کا ارتکاب کرنیوالے عناصر کو قانون کی گرفت میں لاتے ہوئے انکے لیئے متعلقہ عدالتوں
سے مثالی سزاؤں کے عمل کو بھی یقینی بنائی گی۔ اجلاس میں طویل بحث ومباحثے پر آئی جی سندھ نے شرکاء سے سفارشات/تجاویز طلب کیں کہ بتایا جائے کہ خواتین،بچوں،اقلیتوں اورخواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کی بابت ہرضلع میں ایک تھانہ قائم کیا جائے یا تمام تھانہ میں علیحدہ علیحدہ ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے سماجی کارکن اقبال ڈیتھو کو یہ ٹاسک دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیکر تیار کردہ ایس او پی کا جائزہ لیا جائے اور کسی ممکنہ
کمی یا خامی کو باہمی مشاورت اور تجاویز کے ساتھ دور کرکے اندرون دس یوم ایس او پی کو حتمی شکل دیکر نافذالعمل بنایا جائے۔ آئی جی سندھ نے مذید کہا کہ فلاحی وسماجی امور میں مصروف تنظیمیں اپنے طور پر جاری فلاحی سرگرمیوں اورخدمت انسانیت جیسے امور کو مذید بہتر
بنائیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مذکورہ سیل ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرزسندھ کی سربراہی میں کام‌کریگا اسکےدیگر ممبران میں ایس پی،اے آئی جی اور چارڈی ایس پیز/انسپکٹرزرینک کے افسران شامل‌ہیں۔ اس سیل کے چارونگز ہونگے جن میں خواتین، بچوں،اقلیتوں اور خواجہ سراؤں کے
حقوق کی بابت شکایات کا اذالہ کیاجائیگا۔اس سیل پر ذریعہ سندھ پولیس فیس بک،انسٹا گرام، ٹوئٹرزاور واٹس ایپ اکاؤنٹس سامنے آنیوالی شکایات کوناصرفُدیکھا جائیگا بلکہ کاروائی بھی کی‌جائیگی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انسانی حقوق کا مرکزی سیل تمام ضلعی سیلز، محتسب
کے دفاتر، پاکستان سٹیزنز پورٹل، سول سوسائٹی تنظیموں،شیلٹر ہومز، بحالی
مراکز،انویسٹی گیشن یونٹس،کمپلینٹ یونٹس،فارنزک یونٹس، ایم ایل
اودفاتر/ہاسپٹلز سے مستقل لنک/روابط میں رہیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں