وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کراچی کو 200 ایم جی ڈی اضافی پانی فراہم کرنے کے لیے گجو تا پپری ایک علیحدہ کینال تعمیر کرنے کا فیصلہ

کراچی(غلام مصطفے عزیز) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کو 200 ایم جی ڈی اضافی پانی فراہم کرنے کے لیے گجو تا پپری ایک علیحدہ کینال تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے 30 فیصد لائین لاسز کو بھی کم کریں تاکہ 58 ایم جی ڈی پانی کو شہر کے لیے محفوظ کیا جاسکے۔ انہوں نے یہ فیصلہ آج کراچی واٹر بورڈ کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جس میں کے۔ I، II اور III کے موجودہ نظام کی گنجائش کو بہتر بنانے کے حوالے سے امور پر غور کیا گیا جس کے تحت شہر کو پانی مل رہا ہے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، چیئرپرسن پی اینڈ ڈی ناہید شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان اور چیف انجنیئر نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا کہ شہر کی موجودہ پانی کی طلب 1200 ایم جی ڈی ہے جس کے مقابلے میں تقریباً 406 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جارہا ہے ۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر عملدرآمد اور ڈزائین پر جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان نے کہا کہ بلک واٹر سپلائی کے مختلف نظام شہر کو 406 ایم جی ڈی پانی فراہم کررہے ہیں۔ اس میں کے ۔I ، 280 ایم جی ڈی، کے۔II، 100 ایم جی ڈی، کے۔ III، 100 ایم جی ڈی، حب سورس 100 ایم جی ڈی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ سب ملاکر 580 ایم جی ڈی بنتا ہے اس طرح سے تقریباً 30 فیصد یعنی 174 ایم جی ڈی پانی کا مجموعی طور پر نقصان ہورہا ہے۔ ایک سوال پر ایم ڈی نے کہا کہ کراچی کے لیے مختص پانی 650 ایم جی ڈی تھا۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے ان سے کینجھر ۔گجو (کے جی) کینال کے ڈزائین گنجائش کے بارے میں معلوم کیا۔ جس پر انہیں بتایا کہ یہ 650 ایم جی ڈی ہے۔ جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب سسٹم میں الوکیشن ہے اور گنجائش 650 ایم جی ڈی کی ہے تو پھر واٹر بورڈ کیوں نہیں اپنے سسٹم کو بہتر کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر واٹر بورڈ اپنے سسٹم کو بہتر کرلے تو وہ اپنے سسٹم میں 200 ایم جی ڈی سسٹم میں لانے کے قابل ہوجائے گا اور اگر 174 ایم جی ڈی نقصانات کو 10 فیصد کم کردیا جائے تو مزید 58 ایم جی ڈی پانی کی بچت ہوگی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واٹر بورڈ کو گجو تا پپری 250 ایم جی ڈی پانی کی گنجائش کی حامل ایک کینال تعمیر کرنے کی ہدایت کی جہاں سے پانی شہر پہلے سے کام کرنے والے سسٹم میں پمپ کیا جاسکے گا۔ صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ منصوبے پر تقریباً 11 ارب روپے لاگت آئے گی۔ اسکے چند پورشن کے لیے کانٹریکٹ 135 ایم جی ڈی گنجائش کی حامل کینال کی تعمیر کے لیے دیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ 250 ایم جی ڈی کی حامل کینال ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ میں فنڈز کا بندوبست کروں گا کیوں کہ اس شہر کی پانی کی ضرورت و دیگر منصوبوں میں تاخیر ہورہی ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز 28 ایم جی ڈی، پورٹ قاسم 7 ایم جی ڈی سے دستبردار ہورہی ہے۔ اس پرو زیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز میں کام نہیں ہورہا ہے لہٰذہ انکی ضروریات کی دوبارہ سے تشخیص کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ 4 ایم جی ڈی، ڈی ایچ اے کو دے رہے ہیں جوکہ اسٹیل ٹاؤن/گلشن حدید کی آبادی سے کہیں زیادہ ہے لہٰذہ اسٹیل ملز کی ضروریات کی ایک بار پھر تشخیص کی جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ایم ڈی واٹر بورڈ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ حب سے 100 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی سے 50 فیصد نقصانات رکارڈ کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نقصانات کم سے کم 5 تا 8 فیصد تک ہونے چاہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ واپڈا اتھارٹیز کے ساتھ انکے شروع کے 16 کلومیٹر کے واٹر کنوینس سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے بات کریں گے اور انھوں نے اس کے بعد واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے کینال کو بہتر کریں اور پانی کے نقصانات پر قابو پائیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرپرسن پی اینڈ ڈی ناہید شاہ کو ہدایت کی کہ وہ کینجھر تا گجو کینال کی تعمیر اور واٹر بورڈ کے ٹھٹہ سے دھابیجی ، حب تا کراچی موجودہ کنوینس سسٹم کی بہتری کے لیے اسکیم تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ نے خود کو ایک خود انحصار ادارہ بنایا ہے مگر ہم واٹر بورڈ کو سپورٹ کریں گے مگر واٹر بورڈ خود بھی اپنے آپ کو بہتر بنائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں