سعودی عرب کے تیل کے 15کنوؤں پر ڈرون حملے ،بڑا نقصان ہو گیا

جدہ (نمائندہ خصوصی)آرامکو آئل فیلڈ پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار نصف رہ گئی ہے جو کہ پوری دنیا کی سپلائی کا پانچ فیصد ہے جس کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی ہے ، اس صورتحال میں امریکی صدر ٹرمپ نے ولی عہد محمد بن سلمان تعاون کی پیشکش بھی کر دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق حوثی باغیوں نے ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بیان جاری کیاہے کہ آرامکو آئل فیلڈ زکے 15 تیل کے کنوؤں پر 10 ڈرونز نے حملہ کیا جو کہ ” اباقق “ اور ” خورس “ کے مقام پر واقع ہیں ۔سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کے نتیجے میں 57 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ” اوپیک “ کے اگست میں جاری ہونے والے اعدادو شمار کے مطابق سعودی عرب کی یومیہ خام تیل کی پیداوار 98 لاکھ بیرل ہے ۔

وزیر توانائی کا کہناتھا کہ کمپنی اس وقت تیل کی کھوئی پیدوار کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے جوکہ آئندہ دو روز میں اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری کریں گے ۔سعودی عرب کی یومیہ تیل کی پیداوار میں کمی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بھی خدشہ پیدا ہو گیاہے ۔ڈرون حملوں کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے دفاعی تعاون کی پیشکش کر دی ہے ۔ محمد بن سلمان نے کہاہے کہ جارحیت اور دہشتگردی کا پوری قوت کے ساتھ جواب دیا جائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں