دین اسلام امن اور بھائی چارے کادین ہے یہ توروتے ہوؤں کے آنسو صاف کرنے کاحکم دیتاہے حدیث نبوی ﷺ ہے”دین آسان ہے“ مگر کیاواقع ہی ایساہے بھی؟دین پہ چلناکسی وقت میں واقع ہی آسان تھا یہ اس وقت تک تھا جب تک دنیا میں نبی مکرم ﷺ کے تربیت یافتہ افرادیعنی صحابہ اکرام یا ان کے تربیت یافتہ یعنی تبعین یاآخرلوگ تبع تبعین موجودتھے مگر جیسے ہی ان حضرات کی آنکھیں بند ہوئیں اسلام کی اشاعت کی ذمہ داری مولویوں پہ آگئی اسلام کے ان ٹھیکیداروں نے اسلام اور اسلامی اقدار کا وہ حال کیا کہ خدا کی پناہ۔اسلام کے ان علمبرداروں نے اسلام کا چہرہ اس طرح مسخ کیا کہ اصلیت کی پہچان نا ممکن ہوگئی،آج اسلام کودہشت گردی کی دین سمجھاجارہاہے پہلے جولوگ اسلام کوپناہ گاہ سمجھتے تھے اب اس سے پناہ مانگ رہے ہیں دنیا اسے اسلامک فوبیاکہہ رہی ہے مگر مجال ہے ان مولاناحضرات کے کانوں پہ جوؤں تک رینگ رہی ہو،ان کوصرف اپنی روزی روٹی سے مطلب ہے۔ کہتے ہیں جیسا راجاویسی پرجا،مگر اب یوں کہوں تو ذیادہ بہترہوگاجیسامولوی ویسے مقتدی۔مولوی حضرات سے میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے مگر یہ تلخ حقیقت ہے کہ دیسے تو مذہب کے ان رکھوالوں نے دنیا کے کسی حصے میں بدعت اور کفر وشرک کے فتوؤں دے دے کر اسلام کی روح کا جنازہ نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر ہمارے ہاں تومعاملہ عروج پہ پہنچاہواہے، دنیا کہ کسی بھی حصے میں اسلام سے متعلق کوئی بات یاواقعہ ہوپاکستان سب سے ذیادہ متاثر ہوتاہے،ہمارے مولاناحضرات اسلام کے علمبردار بننے میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور جوش کے ساتھ ساتھ یہ لوگ ہوش بھی کھوبیٹھتے ہیں،اپنے جوش اور مفادات کی خاطر اسلامی تعلیمات تک بھول جاتے ہیں۔اب فروری2020؁ء کے واقع کو ہی لے لیں،ساری دنیا کے مسلمان اس پر سراپااحتجاج تھے مگر جس طرح کی احتجاج پاکستان میں ہوا دنیا میں اور کسی جگہ نہیں ہوا اس واقع کو لے کر اس طرح سے عوام کو متعشل کیا گیا کہ لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ جن کوہم مار رہے ہیں خاکے انہوں نے تو نہیں بنائے یا یہ کہ جن کی املاک ہم تباہ کررہے ہیں ہیں یہ تو کبھی زندگی میں فرانس گئے ہی نہیں،بحثیت مسلمان میرا دل بھی بنی مکرم ﷺ کی اس بے حرمتی پر خون کہ آنسو روتا ہے۔دنیامیں کسی اور مذہبی پیشوا کو اس قدر نشانہ نہیں بنایا جاتا جتنا کہ ہمارے نبی ﷺ کو، ایسے واقعات انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں،نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی ہو اور مسلمان کو غصہ نہ آئے یہ تو ممکن ہی نہی مگرسوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا ہم اتنے طاقت ور ہیں کہ اپنے آقا،سرورِکائنات،فخرِموجودات نبی مکرم ﷺ کی ذات پہ ہونے والے ان حملوں کوروک سکیں؟ہماری تو اپنی صفوں میں اتحاد نہیں، ہم لوگوں نے اپناملک اپنے ہی ہاتھوں تباکرنے کی قسم کھارکھی ہے پھر تباہ کرنے والے سیاست دان ہوں،بیوروکریٹس ہوں،تاجرہوں یا مولوی اس صف میں سب ہی ہاتھ باندھے کٹھہرے نظر آتے ہیں۔اسلامی تعلیمات کو لے کر جتنے فتوے پاکستانی مولوٰ ی دیتے ہیں دنیا میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔اسلام امن،سلامتی اور بھائی چارے کادین ہے یہ ہمیں مل جل کر رہنے کی ترغیب دیتا ہے مگر افسوس سے ساتھ کہناپڑتا ہے ہمارے ہاں ہر بندہ ایک دوسرے سے دست وگریباں نظرآتاہے،اب ہم لوگوں نے ایک اور ہمت کا ثبوت دیا اور ایک انسان کو حرمت رسول کے نام پرزندہ جلا ڈالا،کیا مارنے والوں کے پاس ثبوت تھے کہ وہ واجب ال قتل ہے؟فرض کریں ایساتھا بھی اور ثبوت بھی تھے تو قانون اور عدالت نام کی بھی کوئی چیز ہے ہمارے ملک میں اور یہ نہیں بھولنا چاہے کہ اسلام بے گناہ اور شک کی بنیاد پر کسی کو جان سے مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔اصل میں یہ واقع بھی ہمارے ہاں قانون کی کمزوری اور فرقہ پرستی کا شاخسانہ ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے مذیب اور ہمارے آقا ﷺ کی عزت وناموس پر بار بار یہ حملے نا ہوں تو ہمیں سب سے پہلے خود کو اتنا مضبوط کرنا ہوگا کہ ہم حرمتِ رسول ﷺ کی طرف بڑھنے والا ہرہاتھ پکڑ سکیں بلکہ کاٹ بھی سکیں تواس کیلئے ہمیں اپنی بنیاد مضبوط کرنا ہوگی اور ہماری بنیاد توحید اور توکل اللہ ہے،ہماری بنیاد نظم وضبط ہے،ہماری بنیاد ایمان،اتحاد اور تنظیم ہے اس کے لیے ہمیں اپنی درس گاہوں کو درس کرناہوگا پھر چاہیے وہ دینی ہوں یا دنیاوی۔ہمیں معاشرے کی اصلاح کرنا ہوگی اور اس میں ہمارے مذہبی ٹھیکداروں کو بنیادی کروار ادا کرناہوگا،ہمارے مولانا حضرات کوفرقہ بندی اور نسل پرستی سے اوپر اٹھ کر سوچنا ہوگا تبھی ہم اسلام کی اصل روح کو دنیا کے سامنے لاسکتے ہیں پر اس کے لیے محنت اور ایثار سے کام لینا پڑے گا تب ہی ہم مومن اور مثالی انسان بن سکتے ہیں۔بقول شاعر:
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا مگر اس میں لگتی ہے محنت ذیادہ
زرا نہیں مکمل سوچئے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر
آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *