مختلف امور پر ایف اے ٹی ایف کے مقرر کردہ ایکشن پلان کے نکات کو پورا کرنے کے لیے مئی اور ستمبر 2019ء کے مابین نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

کراچی(غلام مصطفے عزیز )گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے اینٹی منی لانڈرنگ/ دہشت گردی کی مالی مدد کی روک تھام اور تجارتی منی لانڈرنگ پر کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ ثابت کرنے کی غرض سے کہ پاکستان کی اینٹی منی لانڈرنگ سیفٹی رجیم موثر ہے، مختلف امور پر فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے مقرر کردہ ایکشن پلان کے نکات کو پورا کرنے کے لیے مئی اور ستمبر 2019ء کے مابین نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا حکام نے 2019ء کے آغاز سے وسط تک کے عرصے میں جو طریقہ کار اپنایا وہ بڑی تبدیلی کا حامل ہے۔ چنانچہ اِن مسائل پر پیش رفت کرنے کی غرض سے اپنے طریقہ کار کو نمایاں طور پر مستحکم بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ تاہم انہوں نے بقیہ امور پر پیش رفت کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ایف اے ٹی ایف کے اگلے اجلاس میں پاکستان کا گرے لسٹ سے اخراج یقینی بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی مدد کے خطرات کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کے سلسلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیرِ اہتمام اسٹیٹ بینک، کراچی میں پیر کو ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے اپنے خطاب میں گورنر نے شرکاء کو بتایا کہ گرے لسٹ میں شامل ہونے کے بعد سے اسٹیٹ بینک نے اپنے دائرے میں آنے والے اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ/ دہشت گردی کی مالی مدد کی روک تھام کے حوالے سے رسائی اور آگاہی بڑھانے کے کئی پروگرام منعقد کیے اور یہ کانفرنس بھی اینٹی منی لانڈرنگ/ دہشت گردی کی مالی مدد کی روک تھام کے عالمی سطح پر درپیش ان چیلنجوں کو سمجھنے، اور ان چیلنجوں کو کم کرنے کے بہترین طریقے جاننے کا ایک مفید پلیٹ فارم ہے ۔ اینٹی منی لانڈرنگ/ دہشت گردی کی مالی مدد کی روک تھام کے تقاضوں پر عمل درآمد کے تناظر میں گورنر نے مالی شعبے پر زور دیا کہ خطرات کا تجزیہ کرنے، کنٹرولز، اور مالی لین دین کی جاری نگرانی کے لیے ٹیکنالوجیز کا موثر استعمال کریں اور اپنے ملازمین کی مسلسل تربیت کر کے ان کی استعداد بڑھائیں۔ ڈاکٹر باقر نے زور دے کر کہا کہ تجارتی نوعیت کی منی لانڈرنگ پیچیدہ اور جدید (sophisticated) چیلنج ہے اور اسٹیٹ بینک کی نگراں ٹیموں نے اس حوالے سے بینکوں کا thematic معائنہ کیا کہ مخصوص مصنوعات کی درآمد اور برآمد کی وہاں کیا صورت حال ہے۔ انہوں نے تجارتی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی مدد جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے اس فریم ورک کا بھی حوالہ دیا جو مجاز ڈیلروں (بینکوں) کو جاری کر دیا گیا ہے تاکہ وہ تجارتی نوعیت کی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی مدد کے خطرات سے نمٹ سکیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر مس Xiohang Yang اور حبیب میٹرو بینک کے صدر اور سی ای او محسن علی ناتھانی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ مس Yang نے کہا کہ منی لانڈرنگ / دہشت گردی کی مالی مدد ٹریڈ فنانسنگ (trade finance) کے لیے نہایت اہم مسئلہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا ٹریڈ فنانس پروگرام اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اس مسئلے پر پاکستان کے شعبہ بینکاری اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ قریب رہ کر کام کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ مس Yang نے مزید کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے اینٹی منی لانڈرنگ / دہشت گردی کی مالی مدد کی روک تھام میں استعداد بڑھانے/ تربیت کو اولین ترجیح قرار دیا ہے اور وہ اسٹیٹ بینک کے ساتھ اشتراک سے خوش ہیں اور اس اہتمام پر حبیب میٹرو بینک کے شکر گزار ہیں۔ حبیب میٹرو بینک کے صدر اور سی ای او محسن علی ناتھانی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آگاہی بڑھا کر اور سسٹمز، کنٹرولز اور پراسیسز کو مستحکم کر کے اینٹی منی لانڈرنگ / دہشت گردی کی مالی مدد کی روک تھام کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانا ہمارے ملک اور شعبہ بینکاری کے لیے لازمی ہے۔ اس کانفرنس کا انعقاد اور خطے سے متعلقہ فریقوں، ضابطہ سازوں اور شعبہ بینکاری کو یکجا کرنا حبیب میٹرو بینک کے لیے باعثِ مسرت ہے اور ہم منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی مدد کے خطرات کم کرنے کے لیے اپنے اجتماعی عزم کو دہراتے ہیں۔کانفرنس کے دوران کئی ممتاز مقررین اور پینلسٹ نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی مدد کی روک تھام کے حوالے سے بنیادی امور اور ذمہ داریوں پر بحث کی جن میں یہ امور شامل ہیں: دہشت گردی کی مالی مدد کے خطرے کا تجزیہ، تجارتی نوعیت کی منی لانڈرنگ میں بین الاقوامی خطرات، ڈی این ایف بی پیز اور این پی اوز کی طرف سے خطرات اور Ultimate Beneficial Ownership۔ تجارتی نوعیت کی منی لانڈرنگ کے اثرات اور بینکوں کے لیے ان کے نتائج پر، خصوصا گرے لسٹ کے پس منظر میں ، تفصیلی بحث بھی کانفرنس میں شامل تھی۔ کانفرنس کا اہتمام حبیب میٹرو بینک نے کیا تھا اور اس میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ہیڈ، اور اینٹی منی لانڈرنگ / دہشت گردی کی مالی مدد کی روک تھام اور تجارت کے شعبے میں بین الاقوامی ماہرین نے بھی شرکت کی جن کا تعلق امریکہ، آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات سے تھا۔ شرکا میں بینکوں، ترقیاتی مالی اداروں، مائکرو فنانس بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کے سی ای اوز اور سینئر انتظامیہ اور اسٹیٹ بینک، فنانشیل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں