مولانا کے ساتھ آنے والے اکثر لوگ تبلیغی اجتماع میں رائیونڈ چلے گئے

لاہور (نمائندہ خصوصی) جمعیت علماءاسلام کا کراچی سے شروع ہونے والا آزادی مارچ جب لاہور میں داخل ہوا تو اس میں شرکاءکی تعداد اچھی خاصی تھی لیکن جب یہی مارچ لاہور سے روانہ ہوا تو ہر شخص یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اتنا بڑا مارچ سکڑ کر کیوں رہ گیا ہے؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ 31 اکتوبر جمعرات سے رائیونڈ اجتماع شروع ہورہا ہے اور آزادی مارچ کے شرکاءکی بڑی تعداد نے لاہور میں حاضری لگوانے کے بعد اسلام آباد کے بجائے رائیونڈ کا رخ کرلیا۔

آزادی مارچ کے شرکاءجس طرح کی تیاریاں کرکے آرہے تھے اس سے یہی لگتا تھا کہ وہ قیام و طعام کا مکمل انتظام کرکے آئے ہیں اور شاید اسلام آباد میں طویل دھرنا ہوگا لیکن جب شرکاءنے رائیونڈ کا رخ کیا تو لوگوں کو سمجھ آگیا کہ یہ تمام تر تیاریاں درحقیقت رائیونڈ میں ہونے والے سالانہ تبلیغی اجتماع کیلئے تھیں۔

ہر سال کی طرح رواں برس بھی رائیونڈ اجتماع 2 حصوں میں ہوگا۔ پہلا مرحلہ 31 اکتوبر کو نمازِ عصر کے بعد شروع ہوگا اور 3 نومبر اتوارکی صبح دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔ رائیونڈ اجتماع کا دوسرا مرحلہ 7 نومبر جمعرات کو شروع ہو کر 10 نومبر اتوار تک جاری رہے گا۔

تبلیغی جماعت نے پاکستان کو 18 حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے جنہیں حلقے کہا جاتا ہے۔ ہر سال 9 حلقوں کا اجتماع ہوتا ہے اور رواں برس جن 9 حلقوں کا اجتماع ہورہا ہے وہ بھی قابل غور ہے۔

اجتماع کے پہلے مرحلے میں 5 حلقوں کے لوگ رائیونڈ پہنچیں گے، ان میں سرگودھا، بنوں ، راولپنڈی، دیر اور حیدر آباد کے حلقے شامل ہیں۔ اگر حیدر آباد حلقے کا جائزہ لیا جائے تو اس میں شکار پور، گھوٹکی، لاڑکانہ ، نواب شاہ، تھرپارکر، سکھر، ٹھٹہ، نوشہرو فیروز سمیت اندرون سندھ کے علاقے شامل ہیں۔ یہ وہی علاقے ہیں جن سے گزر کر آزادی مارچ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب لاہور میں داخل ہوا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکاءنے سیاست اور مذہب کا حسین امتزاج تخلیق کیا۔ وہ سندھ سے اپنے سیاسی قائد مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پنجاب تک بھی آئے لیکن پھر اپنے مذہبی قائدین کے پاس رائیونڈ چلے گئے۔
مولانا فضل الرحمان جمعرات کو پہلے راولپنڈی میں سٹیج سجائیں گے اور پھر اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔ رواں برس کے رائیونڈ اجتماع میں راولپنڈی کا حلقہ بھی شامل ہے جس میں جہلم، کوٹلی، میر پور، چکوال ، اٹک، بھمبر، مظفر آباد، تلہ گنگ اور پونچھ سمیت دیگر علاقے شامل ہیں، اگر آزادی مارچ کو خیبر پختونخوا سے کمک نہ پہنچی تو مولانا فضل الرحمان کا راولپنڈی میں شو اچھا خاصا متاثر ہوسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے انتہائی دانشمندی کے ساتھ آزادی مارچ کی تاریخوں کا انتخاب کیا ہے ۔ انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمی کیلئے بالکل وہی دن چنے جن دنوں میں رائیونڈ اجتماع منعقد ہوتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ رائیونڈ اجتماع میں آنے والے لوگ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں بھی حاضری لگوالیں گےاور اجتماع میں بھی شرکت یقینی بنالیں گے۔

اس کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اگر دھرنے کا پروگرام بنا بھی تو تازہ دم کارکن میسر آتے رہیں گے۔ جس طرح سندھ سے آنے والے کارکن لاہور تک ساتھ آئے اور رائیونڈ اجتماع میں چلے گئے، اسی طرح جن لوگوں نے اجتماع کے دوسرے مرحلے میں شریک ہونا ہے وہ اس سے پہلے جے یو آئی کے آزادی مارچ میں شامل ہوجائیں گے، اور جب دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگا تو اجتماع کے پہلے مرحلے سے فارغ ہونے والے کارکن نئے سرے سے تازہ دم ہو کر آزادی مارچ میں واپس شریک ہوجائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں