• Fri. Apr 19th, 2024

وزیراعلیٰ کی زیر صدات سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد

Aug 23, 2019

غلام مصطفے عزیز / کراچی

وزیراعلیٰ کی زیر صدات سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد

کراچی، 23 اگست ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدات سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقدہوا۔اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ ممتاز شاہ، وزیرانفارمیشن ٹیکنالاجی تیمور ٹالپر، صوبائی مشیر مرتضیٰ وہاب، انسپیکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر کلیم امام، چیئرپرسن منصوبہ بندی و ترقی ناہید شاہ، پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری داخلہ قاضی کبیر، کمشنر کراچی افتخار شہلوانی، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ پولیس نے وزیراعلیٰ سندھ کو 10000 کیمرے نصب کرنے کے حوالےسے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دس ہزار کیمرے لگانے کا کام شروع کرنے کیلئے مکمل تیاری عمل لائی جا چکی ہے ۔ کیمروں کی تفصیلات کی فنی تشخیص کروانا باقی ہے۔ کیمرے ایسے ہونے چاہیں جو گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو ریکارڈ بھی کر سکیں۔محکمہ پولیس جس کی ٹیکنیکل کمیٹی میں آئی ٹی سندھ، آئی ٹی وفاقی حکومت اور پرائیوٹ سیکٹر سے آئی ٹی ماہرین کو شامل کیا جائے ۔ دس ہزار کیمرے کراچی کے ریڈ زون اور اہم تنصیبات اور مقامات پر نصب کیے جائیں گے ۔ جیسے ہی یہ پروجیکٹ کام کرنا شروع کرے گا پورے شہر میں کیمرے کی تنصیب شروع کی جائے گی۔ آئی جی آفس میں28 اگست کو ایک اجلاس منعقد ہوگا جس میں پروجیکٹ کو فائنل کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس کو 15 دن کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ اس پروجیکٹ کے تمام فنی پہلوؤں کو حتمی شکل دی جائے۔دوسرا مرحلہ ٹینڈرکرنے ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ پروجیکٹ انسپیکشن رپورٹ، کنٹرول روم، سروے رپورٹ، ٹیکنیکل فزیبلیٹی رپورٹ اور پی سی ون جمع کروائے جا چکے ہیں۔یہ پروجیکٹ 20 بلین روپے سے زائد لاگت کا ہوگا۔ سیف سٹی پروجیکٹ شروع کرنے کے لیے سندھ سیف سٹیز اتھارٹی (ایس ایس سی اے) قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیاگیا ہے ۔ سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کاڈرافٹ بل تیار ہو چکا ہے۔ یہ پروجیکٹ کابینہ کی سب کمیٹی نے تیار کیا ہے۔ کمیٹی میں صوبائی وزیر امتیاز شیخ، آئی ٹی منسٹر تیمور ٹالپر، وزیر ایکسائیز مکیش چاولہ اور مشیر قانون مرتضیٰ وہاب شامل تھے۔