• Thu. May 23rd, 2024

نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کے باہر سکھوں کا احتجاج لیکن یہ دراصل کون لوگ تھے اور انہیں کس نے احتجاج پر مجبور کیا؟ بھارت کی ایک اور سازش بے نقاب

Sep 3, 2019

لاہور(ویب ڈیسک) بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے غریب سکھوں کو ورغلا کر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے،ایسے میں ننکانہ صاحب کی رہائشی ایک سکھ لڑکی جگجیت کور کے مسلمان ہونے اور ایک مسلمان نوجوان سے شادی کے معاملے کو لے کر بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم پاکستان کے خلاف ہرزہ رسائی کررہی ہے اور اس مقصد کے لیے کئی غریب سکھوں اور سنگتوں کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

ایک سینئر بھارتی صحافی، ایڈیٹر اور متعدد کتابوں کے مصنف گرچرن سنگھ ببر نے کیا ہے۔ گرچرن سنگھ ببر نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ آر ایس ایس اور دہلی گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کا پردھان جو کہ آر ایس ایس کا ایجنٹ ہے اس نے دہلی کے نواحی علاقوں میں بسنے والے چند سکھوں اور غریب لوگوں کو 500،500 روپے دے کر نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کروایا اور نعرے لگوائے۔گرچرن سنگھ ببر نے احتجاج کرنے والے سکھوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے خلاف اس سازش کا حصہ نہ بنیں، احتجاج کرنے والے اس وقت کہاں تھے جب دہلی میں ہزاروں مسلمان اور سکھ لڑکیوں کی آبروریزی کی گئی، بھارت میں آج بھی ہرروز مختلف مذاہب کی لڑکیوں کی آبرو ریزی کی جاتی ہے، اس وقت سکھ اور سنگتیں باہر کیوں نہیں نکلتیں؟انہوں نے کہا کہ پاکستان سکھوں کے لیے اتنا کچھ کررہا ہے اور ہم اس کا صلہ کس طرح دے رہے ہیں، پاکستان میں ایک سکھ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا، مذہب تبدیلی اور مسلمان نوجوان سے شادی کے واقعہ پر سکھوں کو تشویش ہے اور اس بارے میں پاکستان کی حکومت نے موثر اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سکھوں کو انتظار کرنا چاہیے کہ پاکستانی حکومت اس کیس کا کیا کرتی ہے؟ اس ایک واقعہ کی آڑ میں ہم انتہا پسندوں کی پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف احتجاج اور تنقید کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اکتوبر میں جو نگر کیرتن واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان جارہے ہیں وہ منسوخ ہوجائیں گے اور کرتار پور راہداری کا منصوبہ بھی متاثر ہوگا۔