جب تک تیسرے درجے کی حکومت اور بلدیاتی ادارے مضبوط نہیں کئے جائیں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا، اب اس شہر کو تاجروں اور صنعتکاروں کی مدد کی ضرورت ہے، تاجربرادری اس شہر کو اون کرے اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے

کراچی(غلام مصطفے عزیز ) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل پر آج جس تشویش کا اظہار تاجر کر رہے ہیں، گزشتہ تین سال سے میں یہی کہہ رہا ہوں، جب تک تیسرے درجے کی حکومت اور بلدیاتی ادارے مضبوط نہیں کئے جائیں گے، ملک ترقی نہیں کر سکتا، اب اس شہر کو تاجروں اور صنعتکاروں کی مدد کی ضرورت ہے، تاجربرادری اس شہر کو اون کرے اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، حکومتی ذمہ داروں کو بتانا ہو گا کہ ملک کی مضبوطی اور کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے نظام درست کریں، بی ٹی ایس اور امپورٹ ٹیکسز میں سے ایک فیصد کے ایم سی کو ملنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر دفتر میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وسیم اختر نے کہا کہ اس فورم کے توسط سے میں پورے پاکستان کے سینیئر صحافیوں اور اینکرز سے کہتا ہوں کہ وہ آئیں اور آکر دیکھیں کہ کس طرح اس شہر کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ میئرکراچی نے کہا کہ میئر بننے کے بعد وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی، انہوں نے 25 ارب روپے کا پیکیج منظور کیا اس میں سے دس ارب آ چکے، اس میں سے ایک ارب فائر بریگیڈ کی ترقی کے لئے تھا مگر گورنر ہائوس میں اس کی ایل سی نہیں کھل رہی، فائربریگیڈ کو جدید بنانے کے لئے زیادہ وسائل کی ضرورت ہے مگر محدود وسائل میں رہتے ہوئے بھی یہ محکمہ بہتر کام کر رہا ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کی صورت حال بہت خراب ہے، لوگ اس کی بحالی کے لئے کھڑے ہوں، کراچی میں 60 فیصد وفاقی حکومت کا لینڈ کنٹرول ہے جبکہ 30 فیصد حکومت سندھ کے کنٹرول میں ہے یہاں ترقی اور صفائی کی ذمہ داری ان حکومتوں کی ہے، سرکاری زمین پر کچی آبادیاں قائم ہو رہی ہیں مگر کوئی کنٹرول کرنے والا نہیں، میں تین سال سے کہہ رہا ہوں مگر میری بات کوئی نہیں سن رہا۔ انہوں نے تاجروں سے کہا کہ کراچی کے اسپتالوں میں مشینری خراب ہے اس کو درست کرنے میں مدد کریں، شہر میں آوارہ کتوں کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے سو سے ڈیڑھ سو افراد کو روزانہ کتے کاٹتے ہیں مگر پورے سندھ میں اس کی دوا نہیں، کچرا شہر کا بہت بڑا مسئلہ ہے وزیراعلیٰ سندھ نے صفائی مہم شروع کی ہے ہم اس میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ بلدیاتی ریونیو حکومت سندھ نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں یا وہ ڈسٹرکٹ کو دے دیئے گئے جبکہ سیاسی وجوہات پر حکومت سندھ نے کے ایم سی کے میگا پروجیکٹس نوٹیفکیشن کے ذریعے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، یہ کیسے چلے گا؟ اس سے شہر اور شہری متاثر ہو رہے ہیں۔ بلدیاتی اداروں میں 2009ء کے بعد کوئی تقرری نہیں ہوئی۔ میئر کراچی نے کہا کہ پارکوں میں سے شادی ہال اور دیگر تجاوزات ختم کر دی ہیں حالانکہ اس کام سے میرے ووٹر ناراض ہوئے ،کڈنی ہل پارک میں اربن فارسٹ تعمیر کیا جا رہا ہے بڑے پارکس کی تعمیر نو کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمی کا ریونیو اور ٹیکسز حکومت سندھ کے مختلف محکمے وصول کریں گے تو بلدیہ اپنی ذمہ داریوں کو کیسے انجام دے سکے گی؟ انہوں نے کہا کہ کراچی میں دو پورٹ ہیں جن کے لئے کراچی کی سڑکیں استعمال ہوتی ہیں۔ درآمدات پرٹیکس میں سے ایک فیصد کے ایم سی کو ملنا چاہئے تاکہ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں مدد ملے۔ کے ایم سی میں تنخواہوں کی ادائیگی میں ہی 8 کروڑ روپے کا شارٹ فال ہے۔ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ کراچی کے لئے 25 ارب کا ترقیاتی پیکیج دوں گا، چھ ماہ ہو گئے اب شہر کو اس رقم کی فوری ضرورت ہے، میرے پاس یہی لوگ رہ گئے تھے ان کے پاس آیا ہوں اب ان کی مرضی مدد کریں نہ کریں۔سابق صدر اور تاجر رہنماء ایس ایم منیر نے کہا کہ حکومت نے صفائی مہم شروع کی ہے، بہت اچھا ہے مگر یہ پہلے ہونا چاہئے تھا، وزیر اعظم اور صدر کو بھی توجہ دینا چاہئے، اس وقت ہر فرد میئر کراچی کی طرف دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر مئیر کراچی کے ساتھ ہیں اور ان کے اختیارات کے لئے گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم سے بات کریں گے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر دارو خان اچکزئی نے کہا کہ کراچی اہم شہر اور بڑا کاروباری مرکز ہے مگر ہر حکومت نے اسے سونے کی چڑیا سمجھا،آج یہ شہری سہولیات کے حوالے سے بدترین شہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ بری طرح ناکام ہو چکا جو پانی دستیاب ہے اس پر ٹینکر مافیا کا قبضہ ہے، اس وقت سیوریج کا نظام بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے ناکافی ہے اسی وجہ سے گلیاں سیوریج سے بھر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچرے کے ڈھیروں کو دیکھ کر لگتا نہیں کہ یہ کراچی ہے، فائر بریگیڈ بھی بہتر نہیں، ٹرانسپورٹ کی صورت حال بھی خراب ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت شہر کے مسائل کے حل پر توجہ دے۔ سابق سینئر نائب صدر خالد تواب نے کہا کہ افسوسناک صورت حال ہے کہ شہر گندگی سے بھرا ہوا ہے، دنیا میں شہری خدمات میئر کی ذمہ داری ہے یہاں ایسا کیوں نہیں یہ سمجھ نہیں آتا۔سینئر نائب صدر اختیار بیگ نے کہا کہ افسوس ہے کہ کوئی پارٹی بھی اس شہر کو اون نہیں کرتی، اس شہر کا ماسٹر پلان نہیں اور اگر ہے تو اس پر عمل نہیں ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں