مسلم خواتین کا حجاب پہننامشکل بنادیاگیا، اسلامو فوبیا میں اضافہ کن کی وجہ سے ہوا؟ عمران خان نے عالمی طاقتوں کو للکار دیا

نیو یارک (نمائندہ خصوصی) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دہشتگرد یا بنیاد پرست اسلام کچھ نہیں ہوتا بلکہ اسلام وہی ہے جو حضور ﷺ نے ہمیں سکھایا، عالمی رہنماﺅں کی جانب سے اسلامی دہشتگردی اور بنیاد پرستی کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں جس کے باعث اسلامو فوبیا میں اضافہ ہوا اور بہت سے ممالک میں مسلمان خواتین کیلئے حجاب پہننا بھی مشکل بنادیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سے اسلاموفوبیا میں اضافہ خطرناک ہے ، اسلاموفوبیا کی وجہ سے بعض ملکوں میں مسلم خواتین کا حجاب پہننامشکل بنادیاگیاہے، افسوس کی بات ہے مسلم ملکوں کے سربراہوں نے اس ایشو پر بات نہیں کی ، افسوس کی بات ہے کہ بعض سربراہان اسلامی دہشتگردی اور بنیاد پرستی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں جس کے باعث اسلامو فوبیا میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا کسی بھی مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، کوئی مذہب بنیادپرستی نہیں سکھاتا، بنیاد پرست اسلام یادہشت گرد اسلام کچھ نہیں ہوتا ، اسلام صرف ایک ہے جو حضور ﷺ نے ہمیں سکھایا۔ کچھ عالمی لیڈرز نے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا ،ماضی میں خود کش حملوں اور اسلام کوجوڑا گیا، افسوس کی بات ہے مسلم ملکوں کے سربراہوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں 75 فیصد سے زائد خود کش حملے تامل ٹائیگرز نے کیے جو ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے کسی نے ہندو مذہب کو دہشتگرد نہیں کیا، اسی طرح ماضی میں جاپانی بھی خود کش حملے کرتے رہے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں