سطح سمندر بلند ہونے سے ساحلی بستیوں کے گھروں میں سمندری پانی داخل ہو گیا

کراچی(غلام مصطفے عزیز ) بحیرہ عرب میں طوفان کے باعث سطح سمندر بلند ہونے سے مختلف جزیروں اور ساحلی پٹی پر واقع ابراہیم حیدری کے علاقے ریڑھی گوٹھ اور دیگر بستیوں کے گھروں میں سمندری پانی داخل ہو گیا۔ پیر کے روز سیلابی صورت حال کے پیش نظر چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوساٹی عبدالبر اور ڈپٹی کمشنر ویسٹ فیاض عالم سولنگی نے متاثرہ علاقوں کے دورے کئے اور ماہی گیر آبادیوں کی سیلابی صورت حال اور امدادی کاموں کی نگرانی کی۔ صورتحال کے پیش نظر بابا آئی لینڈ، شمس پیر آئی لینڈ اور کیماڑی کے علاقوں میں تین امدادی کیمپ لگا دیئے گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔ چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی کے مطابق ممکنہ سمندری طوفان کے خدشے کے پیش نظر کھلے سمندر میں موجود ماہی گیروں کو گزشتہ روز واپس بلا لیا گیا تھا جبکہ طوفان کے خاتمے سے قبل کسی ماہی گیر کو کھلے سمندر میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ کمشنر کراچی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت سندھ نے دفعہ 144 کے تحت کراچی ڈویژن، ٹھٹھہ اور بدین اضلاع میں کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے فوری طور پر سمندر میں نہانے، تیراکی اور مچھلیاں پکڑنے پر 5 نومبر تک پابندی عائد کر دی ہے۔ مزید براں صورتحال کے پیش نظر میئر کراچی وسیم اختر نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے متعلقہ محکموں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے فائر بریگیڈ، میونسپل سروسز، سٹی وارڈنز، ریسکیو اور اسپتالوں میں عملے کو ڈیوٹی پر حاضر رہنے کی ہدایت کی ہے۔ میئرکراچی نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ سمندری طوفان کے پیش نظر فی الحال ہاکس بے اور دیگر ساحلی تفریحی مقامات پر جانے سے گریز کریں جبکہ ساحلی مقامات پر پہلے سے موجود شہری فوری طور پر سمندر سے دور ہوجائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرناک صورتحال سے محفوظ رہ سکیں۔ سمندری طوفان کے ساتھ تیز ہوائوں اور بلند لہروں کے امکان کے باعث میئر کراچی نے ہاکس بے کے ساحل پر تعینات بلدیہ عظمی کراچی کے ریسکیو عملے اور سٹی وارڈنز کو بھی ہدایت جاری کی کہ وہ شہریوں کو حفاظتی اقدامات سے آگاہ کریں اور سمندر میں نہ جانے دیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہرممکن احتیاط برتی جائے، ساحلی علاقوں کے مکین بھی سمندر میں جانے سے گریز کریں اور طوفانی ہواؤں سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور کے الیکٹرک اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کریں، شہری حفاظتی اقدامات کے پیش نظر طوفانی ہواؤں کے دوران بڑے ہورڈنگز بورڈ کے نیچے کھڑے ہونے سے گریز کریں اور بارش ہونے کی صورت میں بجلی کے پولز سے دور رہیں تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے، متوقع بارشوں کی صورت میں میونسپل سروسز کا عملہ پانی کی نکاسی کے لئے مشینری کے ساتھ تیار رہے تاکہ شہریوں کو کسی بھی مشکل صورتحال سے محفوظ رکھا جا سکے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق سائیکلون کے باعث شمال مشرق سے 18 سے 27 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرد آلود ہوائیں چلیں گی اور کراچی کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 37 سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا۔ کم سے کم درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ اور ہوا میں نمی کا تناسب 33 فیصد ہے۔ بحرہ عرب میں اٹھنے والا سائیکلون کراچی سے 700 کلومیٹر دور ہے اور اس کا رخ اومان کی جانب ہے۔ سائیکلون کے باعث اگلے چوبیس گھنٹوں میں ساحلی علاقوں میں ہلکی بارش کا امکان ہے اور یہ صورتحال 2 نومبر تک رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں