سندھ سولر انرجی پروجیکٹ کے لئے محکمہ توانائی سندھ کا نجی کمپنی کے ساتھ معاہدہ

کراچی(غلام مصطفے عزیز ) محکمہ توانائی سندھ نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی موجودگی میں نجی کمپنیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس میں ورلڈ بینک کے زیر اہتمام سندھ میں 105 ملین ڈالرز کی لاگت سے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ (ایس ایس ای پی) شروع کیا جائے گا۔ دستخطی تقریب میں چیف سکریٹری ممتاز شاہ ، وزیر توانائی امتیاز شیخ ، وزیر اطلاعات سعید غنی ، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو ، سیکرٹری توانائی مصدق خان ، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی ، چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایس ٹی ڈی سی ریحان حامد، چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایلن پارٹنر ، کنسلٹنٹس ضیاء الدین احمد ، چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) فارسائٹ لمیٹڈ زبیر احمد، ورلڈ بینک کے سینئر انرجی ماہر مسٹر اولیور نائٹ ، ورلڈ بینک کے انجم احمد ، امل اعوان ، کاظم سعید ، پی ڈی ایس ایس ای پی محفوظ احمد قاضی ، شیخ عامر ضیا ، کے الیکٹرک کے اسمر نعیم اور خیام صدیقی ، ایڈ نجی کمپنی کے اعجاز رضوی و دیگر موجود تھے۔ صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ نے وزیراعلیٰ سندھ کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں ورلڈ بینک 100 ملین ڈالرز تک کی فنڈنگ کررہی ہے جبکہ صوبائی حکومت 5 ملین ڈالرز فراہم کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ پروجیکٹ کا پی ڈی تعینات کیا جاچکا ہے جس نے پروجیکٹ پر عملدرآمد کے لیے پرائیویٹ فرمز کو ہائر کیا ہے۔ کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو بھی اس منصوبے میں تعاون کریں گے۔
منصوبے کے تین درج ذیل کمپونینٹس ہیں:
ایک 400 میگاواٹ کا سولر پارک مانجھند میں 40 ملین ڈالرز کی لاگت سے قائم کیا جائے گا۔ ایک 20 میگاواٹ کا روٹ ٹاپ سولر سسٹم کراچی اور حیدرآباد میں 25 ملین ڈالرز کی لاگت سے سرکاری شعبے کی عمارتوں میں قائم کیا جائے گا۔ تیسرا کمپونینٹس صوبے کے 10 اضلاع کے پسماندہ علائقوں میں سولر پاک کے ذریعے 2 لاکھ ہوم سسٹم کا ہے جس پر لاگت کا تخمینہ 30 ملین ڈالرز ہے۔ اس منصوبے کے تحت ان علائقوں میں جوکہ گرڈ زونز سے باہر ہیں 2 لاکھ گھروں کو سولر الیکٹرک سٹی فراہم کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ کو ہدایت کی کہ وہ نجی فرمز کے ساتھ معاہدے پر دستخط کریں تاکہ وہ سولر پاک کے ذریعے اس منصوبے کی دیکھ بھال اور اسے چلائیں جس کے تحت 2 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جائے گی۔ امتیاز شیخ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ایس ایس ای پی کے تمام تینوں کمپونینٹس پر عملدرآمد کے لیے کانٹریکٹس کو ورلڈ بینک کی گائیڈ لائینز کے تحت حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری عمارتوں کی نشاندہی کے لیے سروے کیا جائے گا اور انکی چھتوں پر سولر سسٹم لگانے کے لیے تعداد کے بلز تیار کیئے جائیں گے۔ صوبے کے 10 اضلاع میں آف گرڈ اور آن گرڈ علاقوں میں گھروں کا فرم سروے کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ ، ورلڈ بینک کے مشن اور دیگر اعلیٰ افسران نے معاہدے پر ہونے والے دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کمپونینٹس پر عملدرآمد کے بعد حکومت کے بجلی کے بلوں کی مد میں 500 ملین روپے تک کی بچت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں