تحر یک لبیک یا ر سو ل اللہ ﷺ و تحر یک صر ا ط مستقیم کے زیر اہتما م سات ستمبر کو ایوانِ اقبال لاہور میں منعقد ہونے والی تاجدارِ ختم نبوتﷺو جہادِ کشمیر کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں اور فرضیتِ جہاد کشمیر کے فتویٰ کو اجافر کرنے کیلئے لا ہو ر پر یس کلب میں مقبو ضہ کشمیر کے بد تر ین لاک ڈاؤ ن کے29ویں روز نہا یت اہم پر یس کا نفر نس کا انعقا د کیا گیا

لاہور ( ) تحر یک لبیک یا ر سو ل اللہ ﷺ و تحر یک صر ا ط مستقیم کے زیر اہتما م سات ستمبر کو ایوانِ اقبال لاہور میں منعقد ہونے والی تاجدارِ ختم نبوتﷺو جہادِ کشمیر کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں اور فرضیتِ جہاد کشمیر کے فتویٰ کو اجافر کرنے کیلئے لا ہو ر پر یس کلب میں مقبو ضہ کشمیر کے بد تر ین لاک ڈاؤ ن کے29ویں روز نہا یت اہم پر یس کا نفر نس کا انعقا د کیا گیا۔تحر یک لبیک یا رسو ل اللہ ﷺ کے سر برا ہ و تحریک صرا ط مستقیم کے با نی ڈاکٹر محمد اشر ف آصف جلا لی نے دیگر قا ئدین مفتی محمد عا بد جلا لی،صا حبزا دہ محمد امین اللہ سیا لو ی،پیر زا دہ محمد سر دا ر احمد رضا فا رو قی،علا مہ فر مان ن علی حید ری،مفتی محمد اسحاق جلالی،صا حبزا دہ مر تضیٰ علی ھا شمی،علامہ محمد صدیق مصحفی جلالی کے ہمراہ میڈیا کے سامنے مظلو م کشمیر ی مسلما نو ں کی مدد کیلئے جہا د کشمیر کی فر ضیت کا شر عی فتویٰ صا در کیا یا د رکھیں ڈا کٹر محمد اشرف آصف جلا لی اس سے قبل کشمیر پر یس کلب میر پو رآزادکشمیر اور فر یضہئ جہا دکا نفرنس مظفر آباد میں فتو یٰ جہا د پیش کر چکے ہیں۔ڈا کٹر محمد اشرف آصف جلا لی نے کہا بھا رت کشمیر یوں کو اجتما عی سزا دے رہا ہے۔مقبو ضہ وا دی میں جا ری آگ اور خو ن کا ہو لنا ک سلسلہ بہت بڑے انسا نی الیہ کی طر ف بڑھ رہا ہے۔ایک ما ہ سے کشمیر ی مسلما ن مسلسل لا ک ڈا ؤ ن کے پھندے میں اپنی زند گی کی سا نسیں گن رہے ہیں میڈیا بلیک آو ٹ کی و جہ سے مو ت کے اند ھیر وں میں گھرے کشمیر یوں کی چیخیں سنا ئی دینا بھی بند ہو گئی ہیں۔پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت 45000 ہزار سے زائد بے گناہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایسی صو رت حا ل میں کشمیری مسلما ن ہما ری اخلا قی،سفا رتی،قا نو نی مدد سے کہیں آگے قر آنی مدد کے مستحق ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بھا رت کو مقبو ضہ کشمیر سے فو ج نکا لنے کے لئے چند گھنٹو ں کی ڈیڈلا ئن دی جا ئے اور اس کے بعد مقبو ضہ کشمیر میں مو جو د بھا رتی فو ج کے ٹھکا نو ں پر حملے شروع کئے جا ئیں۔اگر آج فوری طور پر کشمیریوں کی فریاد اور حکم جہاد پر کان نہ دھرا گیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ہمارے حکمرانوں کا بار بار یہ کہنا کہ اگر بھارت نے آزاد کشمیر پے حملہ کیا تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر تو انکا قبضہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اور مقبوضہ کشمیر میں جو کشمیری مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے انکی اس بے بسی میں ہم انکی مدد کو نہیں پہنچیں گے۔ ہاں اگر بھارت آزاد کشمیر کی طرف بڑھے گا تو پھرہم انکو جواب دیں گے۔حکمرانوں کی ان طفل تسلیوں سے ہرگز قوم مطمئن نہیں ہے۔اور نہ ہی ایسے کھوکھلے بیانات کے ذریعے سے ہم قیامت کے دن سرخرو ہو سکتے ہیں۔بھارت کی طرف سے یک طرفہ طور پر کشمیر کے اپنے ساتھ یوں الحاق کر لینے پر ٹال مٹول والی پالیسی سے چند لمحوں کی سستی کا کشمیریوں کو صدیوں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اور پاکستان کا استحکام بھی شدید خطرے میں پڑھ جائے گا۔ چنانچہ مظلوم کشمیری مسلمانوں کو بھارت کے شکنجے سے چھڑوانے کیلئے اور مقبوضہ کشمیر کی سرزمین کو غاصبانہ بھارتی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے جہادفرض ہوچکا ہے۔جس کا شرعی فتویٰ بندہ نے صادر کر دیا ہے۔اس فتویٰ میں قرآنی آیات، احادیثِ رسول ﷺ اور فقہائے اسلامی کی تشریحات سے یہ ثابت کیا گیا ہے۔کہ لہو لہو کشمیر کی آزادی کے لئے جہاد کی فرضیت میں کوئی شک باقی نہیں رہا۔ایک مسلمان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جس طرح وہ نماز، روزے کا مکلف ہے۔ ایسے ہی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کا بھی مکلف ہے۔اور عمومی حالات میں بھی ہر مسلمان پر جو کہ معذور نہ ہو سال میں کم از کم ایک بار جہاد فرض ہے۔ اگر عقلِ انسانی کو جہاد کی اور حکمت سمجھ نہ بھی آتی تو جہاد پھر بھی فرض قرار پاتا۔ صرف اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آخرت میں ان کی کامیابی کے لیے جہاد کا مکلف بنادیا ہے۔ مگر یہاں پیشِ نظر صرف ایک مکلف کا اپنی ذمہ داری سے عہدبرآ ہونا ہی نہیں بلکہ اس کے اور مقاصد بھی ہیں۔ اگر لوگوں کو وعظ و تبلیغ سے ہدایت نصیب نہ ہو تو پھر ان کی ہدایت کے پیشِ نظر جہاد کا حکم ہے۔ اصل مقصد انہیں جان سے مارنا نہیں بلکہ زندہ رکھ کر انہیں سیدھے راستے پر چلانا ہے۔ آگے ہٹ دھرمی کرتے ہوئے وہ خود ہی اپنے لیے موت کا انتخاب کر لیں تو علیحدہ بات ہے۔ ایسے ہی جہاد کا مقصد غلبہئ دینِ اسلام اور مسلمانوں کو کفّار کے شر سے محفوظ رکھنا ہے۔ ان کے مقاصد کے لیے بھی جہاد فرض ہے مگر فرضِ عین نہیں ہے بلکہ فرضِ کفایہ ہے۔ جس میں بعض کی طرف سے اس فریضہ کی آدائیگی سے باقی کا فریضہ ادا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر بعض بھی نہ کریں تو سب کو ترکِ فرض کا گناہ ہو گا۔ مگر کچھ صورتیں ایسی ہیں جن میں جہاد فرضِ عین ہو جاتا ہے۔ نمبر1: اگر کسی علاقے میں مقصدِ جہاد جو کہ غلبہئ دین ہے اور کفّار و مشرکین کو دبانا ہے، اگر بعض مسلمانوں کے جہاد سے حاصل نہ ہو سکے تو باقی پر بھی فرضِ عین ہو جاتا ہے۔ نمبر2: جب مسلمانوں کے کسی علاقے پر غیر مسلم قبضہ کر لیں۔نمبر3: جب مسلمانوں کے کسی شہر یا ملک یا کسی مسلمان ملک کی سرحد پر غیر مسلم حملہ کر دیں۔جس علاقے پر غیر مسلموں نے قبضہ کر لیا ہو سب سے پہلے اس علاقے کے مسلمانوں پر جہاد فرضِ عین ہو تا ہے۔پھر اس مقبوضہ علاقے کے جو قریب ترین ہیں ان پر فرضِ عین ہو جاتا ہے۔ اگر ان کے جہاد میں حصہ لینے سے بھی مسئلہ حل نہ ہو یا وہ سستی کر جائیں تو پھر ان کے بعد والے جو علاقے ہیں، ان کے مسلمانوں پر جہاد فرضِ عین ہو گا۔ جب تک وہ مقبوضہ علاقہ کفّار کے قبضے سے مسلمان واپس نہیں لیں گے جہاد کی عینِ فرضیت کا حکم آگے آگے منتقل ہوتا چلا جائے گا۔ یہاں تک کہ اس ایک مقبوضہ علاقہ کو واپس لینے کے لیے یا ایک علاقے کے مظلوم مسلمانوں کے چھٹکارے کے لیے پورے روئے زمین کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جائے گا۔ فتاویٰ بزّازیہ میں ہے کہ ایک مسلمان لڑکی کو معاذاللہ اگر کوئی کافر اغوا کر لے تو مشرق و مغرب کے مسلمانوں پر اسکی رہائی فرض ہو جاتی ہے۔کشمیر میں کتنی دخترانِ اسلام اغواہو چکی ہیں؟ کتنے نوجوان شہید ہو چکے ہیں؟ کس قدر کشمیری مسلمان مرد اور عورتیں جیلوں میں دھکیل دئیے گئے ہیں؟ کس قدر کشمیری مسلمانوں کے گھر گرا اور بستیاں جلا دی گئی ہیں؟ آرٹیکل 370کے خاتمے سے کس قدر ان کی زمینیں، ان کا دیس ان سے چھیننے کا اعلان کر دیا گیا ہے؟ کئی ہفتوں سے مسلسل کرفیو لگا کر کس قدر عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو تمام بنیادی ضرورتوں سے محروم کر دیا گیاہے؟ یہ سب کچھ ان سے ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے کیا جارہا ہے۔ اگر معاذاللہ یہ مسلمان نہ ہوتے تو پہلے نمبر پر تو بھارت ان پر اس قدر مظالم نہ ڈھاتا۔ اور اگر ڈھاتا تو انسانی حقوق کے نام پر مظلوموں کی مدد کے نام پر امریکہ یا اقوامِ متحدہ کی فوجیں ان کی مدد کو آ پہنچتیں۔ ان کشمیریوں کی سعادت یہ ہے کہ یہ مسلمان ہیں، ان پر مسلمان ہونے کی وجہ سے عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ چنانچہ کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں میں سے ایک ایک زیادتی ایسی ہے کہ اس کی وجہ سے پاکستان اور کشمیر کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہوچکا ہے۔ ایسے ہی بھارت کے مسلمانوں پر بھی جہاد فرض ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے حکومتِ پاکستان پر افواجِ پاکستان کو مقبوضہ وادی میں بھیجنا فرض ہے۔ اور پاکستان اور کشمیر کے مسلمانوں پر اس مقصد کے لیے افواجِ پاکستان کے ساتھ جانی، مالی،اخلاقی ہر طرح کا تعاون اور افواجِ پاکستان کی قیادت میں حسبِ ضرورت عملی جہاد میں شریک ہونا فرض ہے۔
جاری کردہ۔۔۔
شعبہ نشرو اشاعت: تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ وتحریک صراط مستقیم TLY+TSM+TLI
محمد جمیل بیگ جلالی:03224552042=baigj91@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں