’یو این کے بنیادی ڈھانچے میں ہی نقص ہے، مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے‘ ترک صدر اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے سفیر بن گئے

نیو یارک (نمائندہ خصوصی) ترک صدر رجب طیب اردگان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھرپور انداز میں مسئلہ کشمیر اٹھادیا۔

جنرل اسمبلی کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردگان نے مسئلہ کشمیر سمیت اہم مسائل حل کرنے میں ناکامی پر اقوام متحدہ کی ساکھ پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بنیادی ڈھانچے میں ہی نقص ہے، یو این کے 196 ممالک ہیں لیکن 5 ممالک کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے، 191 ممالک کیوں 5 ملکوں کے فیصلے کا انتظار کریں؟۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یو این کی موجودگی کے باوجود کیا شام کا مسئلہ حل ہوا؟کیا مقبوضہ بیت المقدس اور راکھائن کا مسئلہ حل ہوا ؟کیا مسئلہ کشمیر حل ہوا؟آج دنیا کو مسئلہ شام، پناہ گزینوں،نسل پرستی غیر ملکی دشمنی،اسلام فوبیا مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین   کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردگان نے اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اٹھایا اور کہا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے باجود 80 لاکھ کشمیری محصور ہیں، جنوبی ایشیا کا امن کشمیر سے جڑا ہوا ہے، مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں خوشحالی ممکن نہیں ہے،اقوام متحدہ کی قرادادوں کے  باوجود کشمیر  اور کشمیر یوں کا محاصرہ جاری ہےاور 8ملین افراد بدقسمتی سے آج بھی اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل پا رہے،کشمیریوں اور  پاکستانی  اور بھارتیوں کی سلامتی کے لیے اس مسئلے کو  جھڑپوں یا جنگ سے نہیں بلکہ  انصاف اور  سچائی   کو بنیاد بناتے ہوئےمسئلہ کشمیر کوجنگ سےنہیں مذاکرات سےحل ہوناچاہیے۔

ترک صدر نے اقوام متحدہ  کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 1947 میں اسرائیل کیا تھا اور آج اسرائیل کیا ہے؟اقوام متحدہ نے اس سارے عرصے میں کیا کردار ادا کیا ہے؟۔اس موقع پر انہوں نے فلسطین کے نقشے کو بھی دکھایا اور کہا کہ اسرائیل قابض فوج کا فلسطینیوں کی اپنی زمین سے بے دخلی کا عمل جاری ہے اور اسرائیل ابھی تک سیر نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں